دعا ہمیں کس نے سکھایا؟

 رب کا ارشاد ہے! اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّ عاََ وَّ خُفْیَۃ اِنَّہٗ لاَیُحِبُّ الْمُعْتَدِیْن٠ ترجمہ:تم اپنے رب سے تضرع ظاہر کرتے ہوئے اور چپکے سے دعا کیا کرو ،اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نہیں پسند کرتے جو حد سے نکل جانے والے ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں رب العالمین نے تضرع ،عاجزی،اور ذلت کے ساتھ دعا مانگنے کا حکم دیا ۔یہیں چیز اللہ پاک کے نزدیک قیمتی سرمایہ ہے ۔ دعاء کے یہ دو اہم آداب ہیں جو آیت میں مزکور ہیں تضرع،اور اخفاء _ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں آہستہ اور پست آواز سے دعا کرنے میں ..

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

داخلہ فارم admission form Jamia maariful Quran

ربیع الاول میں کرنے اور نہ کرنے کے کام ؟

یومِ عاشوراء: فضیلت، احکام اور برکتیں