- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
اشاعتیں
اپریل, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
جامعہ معارف القرآن: عصری فتنوں کے مقابل علم و ہدایت کا روشن مینار
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
جامعہ معارف القرآن: عصری فتنوں کے مقابل علم و ہدایت کا روشن مینار علم ایک ایسی شمع ہے جو نہ صرف جہالت کے اندھیروں کو چاک کرتی ہے بلکہ انسانیت کو اس کی اصل معراج سے بھی روشناس کراتی ہے۔ موجودہ دور، جسے ہم "فتنوں کا دور" کہتے ہیں، اپنی مادی چکا چوند اور فکری بے راہ روی کے باعث نئی نسل کے ایمان و عقیدے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے کٹھن حالات میں جامعہ معارف القرآن محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ سفینۂ نوح کی مانند ہے جو معاشرے کے ہر طبقے کو الحاد اور بے دینی کے طوفانوں سے بچا کر ساحلِ مراد تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ وسعتِ مقصد: صرف تدریس نہیں، تعمیرِ ملت جامعہ معارف القرآن کا امتیاز یہ ہے کہ اس کا مقصد صرف مردوں تک محدود نہیں۔ اگرچہ مردوں کی تعلیم و تربیت معاشرے کی بنیاد ہے، لیکن جامعہ کے پیشِ نظر ایک وسیع تر اور ہمہ گیر مقصد ہے: "ایک مکمل صالح معاشرے کی تشکیل"۔ جامعہ کا نظریہ ہے کہ جب تک معاشرے کی بنیاد یعنی خواتین اور نوجوان نسل زیورِ علم سے آراستہ نہیں ہوگی، تب تک ایک نظریاتی انقلاب کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ نوجوان نسل: فتنوں کے خلاف آہنی حصار آج...
دینی تعلیم: ضرورت، اہمیت اور شرعی استدلال
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
دینی تعلیم: ضرورت، اہمیت اور شرعی استدلال انسانی زندگی کے دو رخ ہیں: ایک مادی اور دوسرا روحانی۔ مادی زندگی کی بقا کے لیے دنیاوی علوم ناگزیر ہیں، لیکن روح کی بالیدگی اور اخروی نجات کا دارومدار صرف اور صرف **دینی تعلیم** پر ہے۔ ذیل میں اس کی اہمیت کے دلائل پیشِ خدمت ہیں: # ۱. علم: انسانیت کا امتیاز (پہلی وحی کا پیغام) دینِ اسلام کی ابتدا ہی علم سے ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے نام اپنے آخری پیغام کا آغاز کسی عبادت (نماز یا روزے) کے حکم سے نہیں، بلکہ "پڑھنے" کے حکم سے کیا۔ * **قرآنی حوالہ:** > "پڑھو (اے نبیؐ) اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا" (سورہ العلق: 1) > * **استدلال:** یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ اسلام کی بنیاد ہی علم پر ہے۔ وہ علم جو "رب کے نام" سے شروع ہو، وہی انسان کو حقیقتِ زندگی سے آشنا کرتا ہے۔ ### ۲. عالم اور جاہل میں فرق (عقلی و نقلی دلیل) دینی تعلیم انسان کو بصیرت عطا کرتی ہے جس سے وہ حق اور باطل کے درمیان تمیز کر سکتا ہے۔ قرآن حکیم نے علم رکھنے والوں اور نہ رکھنے والوں کو برابر قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ * **قرآنی ح...