دینی تعلیم: ضرورت، اہمیت اور شرعی استدلال
دینی تعلیم: ضرورت، اہمیت اور شرعی استدلال
انسانی زندگی کے دو رخ ہیں: ایک مادی اور دوسرا روحانی۔ مادی زندگی کی بقا کے لیے دنیاوی علوم ناگزیر ہیں، لیکن روح کی بالیدگی اور اخروی نجات کا دارومدار صرف اور صرف **دینی تعلیم** پر ہے۔ ذیل میں اس کی اہمیت کے دلائل پیشِ خدمت ہیں:
# ۱. علم: انسانیت کا امتیاز (پہلی وحی کا پیغام)
دینِ اسلام کی ابتدا ہی علم سے ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے نام اپنے آخری پیغام کا آغاز کسی عبادت (نماز یا روزے) کے حکم سے نہیں، بلکہ "پڑھنے" کے حکم سے کیا۔
* **قرآنی حوالہ:**
> "پڑھو (اے نبیؐ) اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا" (سورہ العلق: 1)
>
* **استدلال:** یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ اسلام کی بنیاد ہی علم پر ہے۔ وہ علم جو "رب کے نام" سے شروع ہو، وہی انسان کو حقیقتِ زندگی سے آشنا کرتا ہے۔
### ۲. عالم اور جاہل میں فرق (عقلی و نقلی دلیل)
دینی تعلیم انسان کو بصیرت عطا کرتی ہے جس سے وہ حق اور باطل کے درمیان تمیز کر سکتا ہے۔ قرآن حکیم نے علم رکھنے والوں اور نہ رکھنے والوں کو برابر قرار دینے سے انکار کیا ہے۔
* **قرآنی حوالہ:**
> "فرما دیجیے! کیا علم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہو سکتے ہیں؟" (سورہ الزمر: 9)
>
* **استدلال:** جس طرح اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے، اسی طرح دینی علم کی روشنی سے محروم شخص کائنات کے اسرار اور اللہ کی معرفت حاصل نہیں کر سکتا۔
### ۳. فلاحِ دارین کا راستہ
دینی تعلیم کا مقصد محض معلومات کا حصول نہیں، بلکہ اللہ کا قرب اور فلاحِ دارین (دونوں جہانوں کی کامیابی) ہے۔
* **حدیثِ مبارکہ:**
> "جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی گہری سمجھ (فقہ فی الدین) عطا فرما دیتا ہے۔" (صحیح بخاری)
>
* **استدلال:** یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ دینی تعلیم کا حصول اللہ کی محبت اور اس کی طرف سے خیر کی علامت ہے۔ جس شخص کے پاس دین کا علم نہیں، وہ خیرِ کثیر سے محروم ہے۔
### ۴. اخلاقی اقدار اور تعمیرِ سیرت
دنیوی علوم انسان کو "ماہر" (Expert) تو بنا سکتے ہیں، لیکن "محسن" (باعمل انسان) صرف دینی تعلیم ہی بناتی ہے۔ یہ تعلیم انسان کے اندر خشیتِ الٰہی پیدا کرتی ہے۔
* **حوالہ:**
> "اللہ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔" (سورہ فاطر: 28)
>
* **استدلال:** جب انسان کے دل میں خدا کا خوف پیدا ہوتا ہے، تو وہ معاشرے کے لیے ناسور بننے کے بجائے ایک نفع بخش وجود بن جاتا ہے۔ یہی وہ علم ہے جو تہذیبِ نفس کرتا ہے۔
### ۵. علم کی فرضیت اور وسعت
اسلام نے علم کے حصول کو ہر فرد پر لازم قرار دیا ہے، تاکہ کوئی بھی جہالت کی پستی میں نہ رہے۔
* **حدیثِ مبارکہ:**
> "علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔" (ابنِ ماجہ)
>
* **ادبی نکتہ:** علم کی یہ فرضیت صرف مدرسے تک محدود نہیں، بلکہ کائنات کے ہر ذرے میں رب کی نشانیاں تلاش کرنا اور شرعی احکامات کو جاننا اس فریضے کا حصہ ہے۔
### حاصلِ بحث (خلاصہ)
دینی تعلیم کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ یہ ہمیں **حقوق اللہ** اور **حقوق العباد** کے درمیان توازن سکھاتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ تجارت میں سچائی، سیاست میں دیانت اور معاشرت میں شرافت کیا ہے۔ بقولِ حکیم الامت علامہ اقبال:
> "اگر علم کا مقصود صرف پیٹ بھرنا ہے تو یہ شیطانیت ہے، اور اگر علم کا مقصود اللہ کی معرفت اور انسانیت کی خدمت ہے تو یہ نورِ ایمانی ہے۔"
>
**نتیجہ:**
مذکورہ بالا براہین و شواہد کی روشنی میں یہ کہنا بجا ہے کہ دینی تعلیم کے بغیر انسان کی مادی ترقی اسے رفعت تو دے سکتی ہے، مگر عظم
تِ کردار صرف وحی کے علم سے ہی ممکن ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں