جامعہ معارف القرآن: عصری فتنوں کے مقابل علم و ہدایت کا روشن مینار


جامعہ معارف القرآن: عصری فتنوں کے مقابل علم و ہدایت کا روشن مینار

علم ایک ایسی شمع ہے جو نہ صرف جہالت کے اندھیروں کو چاک کرتی ہے بلکہ انسانیت کو اس کی اصل معراج سے بھی روشناس کراتی ہے۔ موجودہ دور، جسے ہم "فتنوں کا دور" کہتے ہیں، اپنی مادی چکا چوند اور فکری بے راہ روی کے باعث نئی نسل کے ایمان و عقیدے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے کٹھن حالات میں جامعہ معارف القرآن محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ سفینۂ نوح کی مانند ہے جو معاشرے کے ہر طبقے کو الحاد اور بے دینی کے طوفانوں سے بچا کر ساحلِ مراد تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔

وسعتِ مقصد: صرف تدریس نہیں، تعمیرِ ملت

جامعہ معارف القرآن کا امتیاز یہ ہے کہ اس کا مقصد صرف مردوں تک محدود نہیں۔ اگرچہ مردوں کی تعلیم و تربیت معاشرے کی بنیاد ہے، لیکن جامعہ کے پیشِ نظر ایک وسیع تر اور ہمہ گیر مقصد ہے: "ایک مکمل صالح معاشرے کی تشکیل"۔

جامعہ کا نظریہ ہے کہ جب تک معاشرے کی بنیاد یعنی خواتین اور نوجوان نسل زیورِ علم سے آراستہ نہیں ہوگی، تب تک ایک نظریاتی انقلاب کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

نوجوان نسل: فتنوں کے خلاف آہنی حصار

آج کی نوجوان نسل، بالخصوص لڑکیاں، جدید میڈیا اور مغربی افکار کے براہِ راست نشانے پر ہیں۔ جامعہ معارف القرآن ان طالبات کو صرف روایتی تعلیم ہی نہیں دیتا، بلکہ:

 * ان کے نظریات کی حفاظت کرتا ہے۔

 * انہیں قرآنی بصیرت سے نوازتا ہے تاکہ وہ حق اور باطل میں تمیز کر سکیں۔

 * انہیں اسلامی شعار کا پابند بنا کر ایک مثالی ماں، بیٹی اور بہن کے روپ میں ڈھالتا ہے۔

عمر رسیدہ خواتین: تاحیات سیکھنے کا جذبہ

جامعہ کی انفرادیت اس کا وہ شعبہ ہے جو عمر رسیدہ خواتین کے لیے مختص ہے۔ دین سیکھنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ جامعہ ان خواتین کو یہ احساس دلاتا ہے کہ زندگی کی شام ہونے سے پہلے اپنی آخرت کو علمِ دین کی روشنی سے منور کر لیں۔ یہ خواتین جب یہاں سے فیض پاتی ہیں، تو اپنے گھروں میں تربیت کا ایک نیا نظام متعارف کراتی ہیں، جس سے نسلوں کی اصلاح ہوتی ہے۔

جامعہ کا علمی و ادبی امتیاز

جامعہ معارف القرآن کے تعلیمی منہج میں جہاں پختہ علمی گرفت موجود ہے، وہاں اسلوب میں وہ نرمی اور دلکشی بھی ہے جو دورِ حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔

 * قرآن فہمی: الفاظ کے ترجمے سے بڑھ کر قرآن کے پیغام کو روح میں اتارنے کی کوشش۔

 * تزکیۂ نفس: علم کے ساتھ عمل اور اخلاق کی بلندی پر توجہ۔

 * عصری آگاہی: فتنوں کی شناخت اور ان کا علمی و منطقی رد۔

اختتامیہ

مختصر یہ کہ جامعہ معارف القرآن ایک ایسی علمی تحریک ہے جو مردوں، نوجوان لڑکیوں اور بزرگ خواتین کو یکساں طور پر آغوشِ رحمت میں لیے ہوئے ہے۔ یہ ادارہ اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ ہم علمِ دین کے نور کو ہر گھر کی دہلیز تک پہنچائیں گے تاکہ آنے والی نسلیں ایمان کی حلاوت سے سرشار ہوں اور یہ معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن سکے۔

مدثر قاسمی 🖋️

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

داخلہ فارم admission form Jamia maariful Quran

ربیع الاول میں کرنے اور نہ کرنے کے کام ؟

یومِ عاشوراء: فضیلت، احکام اور برکتیں