اشاعتیں

جامعہ معارف القرآن: عصری فتنوں کے مقابل علم و ہدایت کا روشن مینار

جامعہ معارف القرآن: عصری فتنوں کے مقابل علم و ہدایت کا روشن مینار علم ایک ایسی شمع ہے جو نہ صرف جہالت کے اندھیروں کو چاک کرتی ہے بلکہ انسانیت کو اس کی اصل معراج سے بھی روشناس کراتی ہے۔ موجودہ دور، جسے ہم "فتنوں کا دور" کہتے ہیں، اپنی مادی چکا چوند اور فکری بے راہ روی کے باعث نئی نسل کے ایمان و عقیدے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے کٹھن حالات میں جامعہ معارف القرآن محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ سفینۂ نوح کی مانند ہے جو معاشرے کے ہر طبقے کو الحاد اور بے دینی کے طوفانوں سے بچا کر ساحلِ مراد تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ وسعتِ مقصد: صرف تدریس نہیں، تعمیرِ ملت جامعہ معارف القرآن کا امتیاز یہ ہے کہ اس کا مقصد صرف مردوں تک محدود نہیں۔ اگرچہ مردوں کی تعلیم و تربیت معاشرے کی بنیاد ہے، لیکن جامعہ کے پیشِ نظر ایک وسیع تر اور ہمہ گیر مقصد ہے: "ایک مکمل صالح معاشرے کی تشکیل"۔ جامعہ کا نظریہ ہے کہ جب تک معاشرے کی بنیاد یعنی خواتین اور نوجوان نسل زیورِ علم سے آراستہ نہیں ہوگی، تب تک ایک نظریاتی انقلاب کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ نوجوان نسل: فتنوں کے خلاف آہنی حصار آج...

دینی تعلیم: ضرورت، اہمیت اور شرعی استدلال

 دینی تعلیم: ضرورت، اہمیت اور شرعی استدلال انسانی زندگی کے دو رخ ہیں: ایک مادی اور دوسرا روحانی۔ مادی زندگی کی بقا کے لیے دنیاوی علوم ناگزیر ہیں، لیکن روح کی بالیدگی اور اخروی نجات کا دارومدار صرف اور صرف **دینی تعلیم** پر ہے۔ ذیل میں اس کی اہمیت کے دلائل پیشِ خدمت ہیں: # ۱. علم: انسانیت کا امتیاز (پہلی وحی کا پیغام) دینِ اسلام کی ابتدا ہی علم سے ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے نام اپنے آخری پیغام کا آغاز کسی عبادت (نماز یا روزے) کے حکم سے نہیں، بلکہ "پڑھنے" کے حکم سے کیا۔  * **قرآنی حوالہ:**    > "پڑھو (اے نبیؐ) اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا" (سورہ العلق: 1)    >   * **استدلال:** یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ اسلام کی بنیاد ہی علم پر ہے۔ وہ علم جو "رب کے نام" سے شروع ہو، وہی انسان کو حقیقتِ زندگی سے آشنا کرتا ہے۔ ### ۲. عالم اور جاہل میں فرق (عقلی و نقلی دلیل) دینی تعلیم انسان کو بصیرت عطا کرتی ہے جس سے وہ حق اور باطل کے درمیان تمیز کر سکتا ہے۔ قرآن حکیم نے علم رکھنے والوں اور نہ رکھنے والوں کو برابر قرار دینے سے انکار کیا ہے۔  * **قرآنی ح...

داخلہ فارم admission form Jamia maariful Quran

 جامعہ معارف القرآن شیواجی نگر گوونڈی ممبئی محترم والدین / سرپرست درج ذیل معلومات درست طریقے سے پر کریں تاکہ داخلے کے عمل کو مکمل کیا جا سکے. .1 طالب علم کی بنیادی معلومات طالب علم کا مکمل نام والد کا نام تاریخ پیدائش جنس: () لڑکا / () لڑکی .2 تعلیمی معلومات کورس کا انتخاب آپ کس کورس میں داخلہ لینا چاہتے ہیں؟ کسی ایک کا انتخاب کریں [] ناظره قرآن کریم تجوید کے ساتھ) [ ] حفظ قرآن [] دینیات بنیادی اسلامی تعلیمات کلمی دعائیں، نماز) سابق دینی تعلیم اگر پہلے سے کچھ پڑھا ہو تو یہاں لکھیں) .3 رابطہ کی تفصیلات واتس ایپ نمبر رابطہ کے لیے) ای میل ایڈریس مکمل پتہ: شهر / ملک .4 آن لائن کلاس کا وقت آپ کے لیے کون سا وقت مناسب رہے گا؟ () صبح کا وقت ( ) دوپہر کا وقت ( ) شام کا وقت () رات کا وقت شرائط و ضوابط 1 طالب علم کے لیے کلاس کے وقت پر انٹرنیٹ اور موبائل لیپ ٹاپ کی دستیابی ضروری ہے۔ 2 کلاس میں حاضری کی پابندی لازمی ہے۔ 3 ماہانہ فیس وقت پر ادا کرنی ہوگی تاریخ دستخط سرپرست

جامعہ معارف القرآن ممبئی jamia ma ariful quran mumbai

 الحمدللہ جامعہ معارف القرآن ممبئی کا ایک ایسا دینی ادارہ ہے جہاں لڑکے اور لڑکیوں کے لیے معیاری اور غیر مخلوط تعلیم دی جاتی ہے تو وہیں بالغان مرد و خواتین کی بھی تعلیم کا انتظام ہے جن میں خاص بات یہ ہے کہ خواتیں کے لیے الگ جگہ اور مرد حضرات کے لیے الگ اور یہ بھی یاد رہیں کہ عمر کی کوئی قید نہیں  اس لیے آپ حضرات سے گزارش ہے کہ یہ موقع ضائع نہ ہونے دیں  داخلہ فری  رابطہ نمبر 9045713315

یونیفارم سول کوڈ کا مقصد ؟

 یونیفارم سول کوڈ کا مقصد یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے افراد کے لیے ذاتی قوانین کی پیچیدگیوں کو ختم کیا جائے اور سب کو یکساں قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔ اس کے چند اہم نکات یہ ہیں: 1. سماجی مساوات: یونیفارم سول کوڈ کا مقصد مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان مساوات پیدا کرنا ہے، تاکہ کسی بھی فرد کو مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 2. قانونی سادگی: مختلف مذہبی قوانین کی بجائے ایک مشترکہ قانون سے قانونی نظام زیادہ سادہ اور سمجھنے میں آسان ہوگا۔ 3. حقوق کی حفاظت: یہ نظام خاص طور پر خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ مختلف مذاہب میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے متضاد قوانین موجود ہیں۔ 4. آئینی بنیاد: بھارتی آئین کے آرٹیکل 44 میں اس کی شق موجود ہے، جو ریاست کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن اسی سمیدھان کے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ اس ملک کے سبھی دھرم ،ذات،پات کے لوگ اپنی آزادی کے ساتھ جی سکتے ہیں  پتا نہیں یہ شق کیوں نظر نہیں آیا؟ بہر حال: یونیفارم سول کوڈ پر بحث و مباحثہ جاری ہے اور اس کے نفاذ کے حامی اور مخالف دونوں اپنی اپن...

وقف کی اہمیت شریعت کی نظر میں: مدلل تجزیہ

وقف اسلامی نظام کے فلاحی، سماجی، اور اقتصادی پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی شرعی اور قانونی عمل ہے جو اسلامی معاشرت میں بہتری اور فلاح کے لیے مخصوص کیا جاتا ہے۔ اس مضمون میں، ہم وقف کی اہمیت کو شریعت کے حوالے سے مزید تفصیل سے مدلل کریں گے۔ 1. وقف کی تعریف اور اس کی شرعی شرعی حیثیت: وقف کی لغوی تعریف "رکنا" ہے۔ شرعی اصطلاح میں، وقف اس عمل کو کہتے ہیں جس میں کوئی شخص اپنی ملکیت یا مال کو مخصوص نیک مقصد کے لیے وقف کرتا ہے، اور اس مال کا فائدہ صرف اور صرف اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلامی قانون (فقہ) میں وقف کے اصول قرآن و سنت میں واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغام کو فروغ دینے، علم کے پھیلاؤ اور فلاحی کاموں کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ سنت میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وقف کی اہمیت کو کئی مواقع پر بیان کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک باغ کو وقف کر دیا، اور اس کے فوائد کو مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مخصوص کیا (بخاری: 2732)۔ 2. وقف کی فلاحی اہمیت: الف) تعلیمی اداروں کی ...