اشاعتیں

یومِ عاشوراء: فضیلت، احکام اور برکتیں

 یومِ عاشوراء: فضیلت، احکام اور برکتیں محرم الحرام کا دسواں دن، یعنی 'عاشوراء'، اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی بابرکت اور اہم دن ہے۔ اس دن کی فضیلت اور اس سے متعلق احکام کا خلاصہ درج ذیل ہے: ۱. یومِ عاشوراء کا روزہ: اہمیت و فضیلت ابتدائے اسلام میں عاشوراء کا روزہ فرض تھا، لیکن رمضان المبارک کی فرضیت کے بعد یہ حکم منسوخ ہو گیا۔ تاہم، اس دن کی اہمیت برقرار رہی اور نبی کریم ﷺ نے اس روزے کا خصوصی اہتمام فرمایا۔ احادیثِ مبارکہ کے مطابق یہ روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ روزہ رکھنے کا طریقہ اور احتیاط: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو نویں محرم کا روزہ بھی ضرور رکھوں گا، تاکہ یہود کی مشابہت سے بچا جا سکے۔ اسی بناء پر فقہائے کرام نے صرف دسویں محرم کا روزہ رکھنے کو 'مکروہِ تنزیہی' (پسندیدہ نہ ہونا) قرار دیا ہے، تاکہ یہود کے طریقے سے امتیاز برقرار رہے۔ روزے کے درجات: حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے اس کی تین صورتیں بیان فرمائی ہیں: افضل ترین: نویں، دسویں اور گیارہویں، تینوں دن کے روزے رکھے جائیں۔ درمیانی درجہ: نویں اور دسویں، یا دسویں ...

ثعلبہ بن حاطب رضی اللہ عنہ اور منافقین میں ذکر ہونے والا شخص ایک ہی ہیں؟ ایک تحقیقی جائزہ

 کیا ثعلبہ بن حاطب رضی اللہ عنہ اور منافقین میں ذکر ہونے والا شخص ایک ہی ہیں؟ ایک تحقیقی جائزہ تحریر: مدثر قاسمی تاریخِ اسلام کے مطالعے کے دوران اکثر قارئین کو ایک نام "ثعلبہ بن حاطب" کے حوالے سے الجھن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مفسرین کے ہاں یہ واقعہ مشہور ہے کہ ایک صحابی نے مال کی فراوانی کے لیے دعا کروائی، پھر زکوٰۃ دینے سے انکار کیا، جس پر سورۃ التوبہ کی آیت (75) نازل ہوئی۔ دوسری طرف کتبِ تاریخ اور اسماء الرجال میں "ثعلبہ بن حاطب" نامی ایک جلیل القدر بدری صحابی کا بھی ذکر ملتا ہے۔ آیا یہ دونوں ایک ہی شخص ہیں؟ اس بارے میں محدثین اور محققین کی آراء اور حوالہ جات مندرجہ ذیل ہیں: 1. تعددِ شخصیات کا ثبوت اکابر محققین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ دو الگ الگ شخصیات ہیں۔ بدری صحابی: ثعلبہ بن حاطب بن عمرو بن عبید الانصاری۔ ان کا ذکر موسیٰ بن عقبہ اور ابن اسحاق نے بدری صحابہ میں کیا ہے اور بتایا ہے کہ آپ جنگِ احد میں شہید ہوئے۔ (الاصابہ فی تمییز الصحابہ: 1/517) صاحبِ قصہ: دوسرے شخص "ثعلبہ بن ابی حاطب" ہیں جن کا ذکر ابن اسحاق نے ان لوگوں میں کیا ہے جنہوں نے مسجدِ ضرار تع...

قرآنِ حکیم: حیاتِ انسانی کی تشکیل و تعمیر کا ابدی منشور

 قرآنِ حکیم: حیاتِ انسانی کی تشکیل و تعمیر کا ابدی منشور قرآنِ مجید محض ایک کتابِ ہدایت نہیں، بلکہ یہ کائناتِ انسانی کے لیے وہ نقطۂ ارتکاز ہے جس کے گرد حیاتِ نو کی تمام تر رونقیں اور اخلاقیات کے تمام ستون استوار ہیں۔ قرآنِ پاک کی تعلیم اور اس کا فہم نہ صرف ایک مذہبی تقاضا ہے، بلکہ یہ انسانی عقل و شعور کی آبیاری اور معاشرتی امن کے قیام کے لیے بھی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ ہدایت و بصیرت کا ابدی سرچشمہ⭐ قرآنِ پاک انسانیت کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم و آگہی کے نور کی طرف لانے والی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "یہ ایک کتاب ہے جس کی آیات کو محکم کیا گیا ہے، پھر تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، ایک حکیم اور باخبر ہستی کی طرف سے۔" (سورہ ہود: 1)۔ قرآن پڑھانے کا مقصد انسان کو کائنات کی حقیقتوں، خالق اور مخلوق کے تعلق، اور زندگی کے اصل ہدف سے روشناس کرانا ہے۔ یہ کتاب انسان کو سطحی سوچ سے نکال کر گہری بصیرت عطا کرتی ہے۔  اخلاقی و روحانی ارتقاء⭐ تعلیمِ قرآن انسانی ضمیر کو بیدار کرتی ہے۔ قرآنِ مجید میں بیان کردہ قصص، احکام اور اخلاقیات کا مطالعہ انسان کے اندر عاجزی، صبر، شکر، امانت داری، او...

عشرہ ذوالحجہ: فضائل و برکات کا حسین سنگم ماہِ ذوالحجہ کے ابتدائ

عشرہ ذوالحجہ: فضائل و برکات کا حسین سنگم ماہِ ذوالحجہ کے ابتدائی دس ایام اللہ رب العزت کی جانب سے اپنے بندوں کے لیے رحمتوں اور مغفرت کا ایک ایسا عظیم تحفہ ہیں، جن کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پروردگارِ عالم نے قرآنِ کریم کی سورہ الفجر میں ان مقدس راتوں کی قسم کھائی ہے: {وَ لَیَالٍ عَشْرٍ}۔ (یعنی ان دس راتوں کی قسم!) مفسرینِ کرام کی ایک بڑی تعداد کا یہی موقف ہے کہ ان سے مراد ذوالحجہ کے یہی ابتدائی دس ایام و لیالی ہیں۔ عبادات کا بے پناہ اجر و ثواب احادیثِ مبارکہ میں ان ایام کی عبادت، ذکر و اذکار، قیام اللیل اور روزوں کی اتنی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ ان کا موازنہ سال کے دیگر تمام دنوں سے ممکن نہیں۔ یہ وہ ایام ہیں جن میں کی جانے والی معمولی سی نیکی بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دیگر ایام کے بڑے بڑے اعمال سے زیادہ پسندیدہ ٹھہرتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں سے زیادہ کسی بھی دن کا عمل اسے اتنا محبوب نہیں جتنا ان دس دنوں کا عمل ہے۔" صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ! کیا اللہ کی راہ میں جہاد بھی (ا...

جامعہ معارف القرآن: عصری فتنوں کے مقابل علم و ہدایت کا روشن مینار

جامعہ معارف القرآن: عصری فتنوں کے مقابل علم و ہدایت کا روشن مینار علم ایک ایسی شمع ہے جو نہ صرف جہالت کے اندھیروں کو چاک کرتی ہے بلکہ انسانیت کو اس کی اصل معراج سے بھی روشناس کراتی ہے۔ موجودہ دور، جسے ہم "فتنوں کا دور" کہتے ہیں، اپنی مادی چکا چوند اور فکری بے راہ روی کے باعث نئی نسل کے ایمان و عقیدے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے کٹھن حالات میں جامعہ معارف القرآن محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ سفینۂ نوح کی مانند ہے جو معاشرے کے ہر طبقے کو الحاد اور بے دینی کے طوفانوں سے بچا کر ساحلِ مراد تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔ وسعتِ مقصد: صرف تدریس نہیں، تعمیرِ ملت جامعہ معارف القرآن کا امتیاز یہ ہے کہ اس کا مقصد صرف مردوں تک محدود نہیں۔ اگرچہ مردوں کی تعلیم و تربیت معاشرے کی بنیاد ہے، لیکن جامعہ کے پیشِ نظر ایک وسیع تر اور ہمہ گیر مقصد ہے: "ایک مکمل صالح معاشرے کی تشکیل"۔ جامعہ کا نظریہ ہے کہ جب تک معاشرے کی بنیاد یعنی خواتین اور نوجوان نسل زیورِ علم سے آراستہ نہیں ہوگی، تب تک ایک نظریاتی انقلاب کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ نوجوان نسل: فتنوں کے خلاف آہنی حصار آج...

دینی تعلیم: ضرورت، اہمیت اور شرعی استدلال

 دینی تعلیم: ضرورت، اہمیت اور شرعی استدلال انسانی زندگی کے دو رخ ہیں: ایک مادی اور دوسرا روحانی۔ مادی زندگی کی بقا کے لیے دنیاوی علوم ناگزیر ہیں، لیکن روح کی بالیدگی اور اخروی نجات کا دارومدار صرف اور صرف **دینی تعلیم** پر ہے۔ ذیل میں اس کی اہمیت کے دلائل پیشِ خدمت ہیں: # ۱. علم: انسانیت کا امتیاز (پہلی وحی کا پیغام) دینِ اسلام کی ابتدا ہی علم سے ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے نام اپنے آخری پیغام کا آغاز کسی عبادت (نماز یا روزے) کے حکم سے نہیں، بلکہ "پڑھنے" کے حکم سے کیا۔  * **قرآنی حوالہ:**    > "پڑھو (اے نبیؐ) اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا" (سورہ العلق: 1)    >   * **استدلال:** یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ اسلام کی بنیاد ہی علم پر ہے۔ وہ علم جو "رب کے نام" سے شروع ہو، وہی انسان کو حقیقتِ زندگی سے آشنا کرتا ہے۔ ### ۲. عالم اور جاہل میں فرق (عقلی و نقلی دلیل) دینی تعلیم انسان کو بصیرت عطا کرتی ہے جس سے وہ حق اور باطل کے درمیان تمیز کر سکتا ہے۔ قرآن حکیم نے علم رکھنے والوں اور نہ رکھنے والوں کو برابر قرار دینے سے انکار کیا ہے۔  * **قرآنی ح...

داخلہ فارم admission form Jamia maariful Quran

 جامعہ معارف القرآن شیواجی نگر گوونڈی ممبئی محترم والدین / سرپرست درج ذیل معلومات درست طریقے سے پر کریں تاکہ داخلے کے عمل کو مکمل کیا جا سکے. .1 طالب علم کی بنیادی معلومات طالب علم کا مکمل نام والد کا نام تاریخ پیدائش جنس: () لڑکا / () لڑکی .2 تعلیمی معلومات کورس کا انتخاب آپ کس کورس میں داخلہ لینا چاہتے ہیں؟ کسی ایک کا انتخاب کریں [] ناظره قرآن کریم تجوید کے ساتھ) [ ] حفظ قرآن [] دینیات بنیادی اسلامی تعلیمات کلمی دعائیں، نماز) سابق دینی تعلیم اگر پہلے سے کچھ پڑھا ہو تو یہاں لکھیں) .3 رابطہ کی تفصیلات واتس ایپ نمبر رابطہ کے لیے) ای میل ایڈریس مکمل پتہ: شهر / ملک .4 آن لائن کلاس کا وقت آپ کے لیے کون سا وقت مناسب رہے گا؟ () صبح کا وقت ( ) دوپہر کا وقت ( ) شام کا وقت () رات کا وقت شرائط و ضوابط 1 طالب علم کے لیے کلاس کے وقت پر انٹرنیٹ اور موبائل لیپ ٹاپ کی دستیابی ضروری ہے۔ 2 کلاس میں حاضری کی پابندی لازمی ہے۔ 3 ماہانہ فیس وقت پر ادا کرنی ہوگی تاریخ دستخط سرپرست

جامعہ معارف القرآن ممبئی jamia ma ariful quran mumbai

 الحمدللہ جامعہ معارف القرآن ممبئی کا ایک ایسا دینی ادارہ ہے جہاں لڑکے اور لڑکیوں کے لیے معیاری اور غیر مخلوط تعلیم دی جاتی ہے تو وہیں بالغان مرد و خواتین کی بھی تعلیم کا انتظام ہے جن میں خاص بات یہ ہے کہ خواتیں کے لیے الگ جگہ اور مرد حضرات کے لیے الگ اور یہ بھی یاد رہیں کہ عمر کی کوئی قید نہیں  اس لیے آپ حضرات سے گزارش ہے کہ یہ موقع ضائع نہ ہونے دیں  داخلہ فری  رابطہ نمبر 9045713315

یونیفارم سول کوڈ کا مقصد ؟

 یونیفارم سول کوڈ کا مقصد یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے افراد کے لیے ذاتی قوانین کی پیچیدگیوں کو ختم کیا جائے اور سب کو یکساں قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔ اس کے چند اہم نکات یہ ہیں: 1. سماجی مساوات: یونیفارم سول کوڈ کا مقصد مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان مساوات پیدا کرنا ہے، تاکہ کسی بھی فرد کو مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 2. قانونی سادگی: مختلف مذہبی قوانین کی بجائے ایک مشترکہ قانون سے قانونی نظام زیادہ سادہ اور سمجھنے میں آسان ہوگا۔ 3. حقوق کی حفاظت: یہ نظام خاص طور پر خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ مختلف مذاہب میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے متضاد قوانین موجود ہیں۔ 4. آئینی بنیاد: بھارتی آئین کے آرٹیکل 44 میں اس کی شق موجود ہے، جو ریاست کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن اسی سمیدھان کے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ اس ملک کے سبھی دھرم ،ذات،پات کے لوگ اپنی آزادی کے ساتھ جی سکتے ہیں  پتا نہیں یہ شق کیوں نظر نہیں آیا؟ بہر حال: یونیفارم سول کوڈ پر بحث و مباحثہ جاری ہے اور اس کے نفاذ کے حامی اور مخالف دونوں اپنی اپن...

وقف کی اہمیت شریعت کی نظر میں: مدلل تجزیہ

وقف اسلامی نظام کے فلاحی، سماجی، اور اقتصادی پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی شرعی اور قانونی عمل ہے جو اسلامی معاشرت میں بہتری اور فلاح کے لیے مخصوص کیا جاتا ہے۔ اس مضمون میں، ہم وقف کی اہمیت کو شریعت کے حوالے سے مزید تفصیل سے مدلل کریں گے۔ 1. وقف کی تعریف اور اس کی شرعی شرعی حیثیت: وقف کی لغوی تعریف "رکنا" ہے۔ شرعی اصطلاح میں، وقف اس عمل کو کہتے ہیں جس میں کوئی شخص اپنی ملکیت یا مال کو مخصوص نیک مقصد کے لیے وقف کرتا ہے، اور اس مال کا فائدہ صرف اور صرف اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلامی قانون (فقہ) میں وقف کے اصول قرآن و سنت میں واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغام کو فروغ دینے، علم کے پھیلاؤ اور فلاحی کاموں کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ سنت میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وقف کی اہمیت کو کئی مواقع پر بیان کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک باغ کو وقف کر دیا، اور اس کے فوائد کو مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مخصوص کیا (بخاری: 2732)۔ 2. وقف کی فلاحی اہمیت: الف) تعلیمی اداروں کی ...

دعا ہمیں کس نے سکھایا؟

 رب کا ارشاد ہے! اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّ عاََ وَّ خُفْیَۃ اِنَّہٗ لاَیُحِبُّ الْمُعْتَدِیْن٠ ترجمہ:تم اپنے رب سے تضرع ظاہر کرتے ہوئے اور چپکے سے دعا کیا کرو ،اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نہیں پسند کرتے جو حد سے نکل جانے والے ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں رب العالمین نے تضرع ،عاجزی،اور ذلت کے ساتھ دعا مانگنے کا حکم دیا ۔یہیں چیز اللہ پاک کے نزدیک قیمتی سرمایہ ہے ۔ دعاء کے یہ دو اہم آداب ہیں جو آیت میں مزکور ہیں تضرع،اور اخفاء _ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں آہستہ اور پست آواز سے دعا کرنے میں ..

ربیع الاول میں کرنے اور نہ کرنے کے کام ؟

تصویر
 ربیع الاول اسلامی کیلنڈر کا تیسرا مہینہ ہے، جس میں پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت اور وفات دونوں کی تاریخیں آتی ہیں۔ اس مہینے کے حوالے سے مختلف ثقافتی اور مذہبی روایات موجود ہیں۔ ان میں کچھ منسلک خرافات بھی پائی جاتی ہیں، جو اکثر تعلیمی یا مذہبی نقطہ نظر سے درست نہیں سمجھی جاتی ہیں۔ 1. ربیع الاول کو خاص طور پر جشن ولادت النبی منانے کا حکم قرآن یا حدیث میں موجود نہیں۔ 2. کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ربیع الاول میں خاص طور پر نفل عبادات کرنے سے بہت زیادہ ثواب ملتا ہے، لیکن یہ بھی واضح نصوص سے ثابت نہیں ہے۔ 3. بعض لوگ اس مہینے میں خوشبو لگانے، خاص لباس پہننے یا مخصوص کھانے تیار کرنے کو بھی خاص طور پر مستحب سمجھتے ہیں، جو کہ مستند دینی دلائل سے ثابت نہیں۔ 4. مختلف علاقوں میں ربیع الاول کی رات کو عشاء کے بعد بڑے اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں، جو کہ سنت سے ثابت نہیں ہیں۔ 5. ربیع الاول میں 'میلاد' یا 'یوم میلاد' کے مخصوص پروگرام منعقد کرنے کا تصور بھی اسلامی تعلیمات سے ثابت نہیں۔ 6. بعض لوگ اس ماہ میں مخصوص قسم کی عبادات یا اذکار کرنے کی عادت بنا لیتے ہیں، جو کہ نبی ص...

اعلان امتحان ششماہی

 تمام طلبہ و طالبات کو یہ اطلاع دی جارہی ہے کہ امتحان ششماہی کا وقت بروز جمعہ 16 ربیع الاول بمطابق 20 ستمبر تا سنیچر 17 ربیع الاول بمطابق 21 ستمبر ہونا طئے پایا ہے وقت ضائع کیے بغیر اپنی تیاری میں مصروف ہو جائیں ۔ ورنہ  لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی اللہ آپ تمام طلبہ وطالبات کو کامیابی سے ہم کنار کریں فقط والسلام  دعاء کا طالب مدثر قاسمی  خادم جامعہ ہٰذا